وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اگر کراچی کے منصوبوں میں فنڈز کا اجراء کرتی ہے تو ہم ان کو خوش آمدید کہیں گے۔

0
418

وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اگر کراچی کے منصوبوں میں فنڈز کا اجراء کرتی ہے تو ہم ان کو خوش آمدید کہیں گے۔ کراچی میں پانی اورسیوریج کے مسائل ہیں اور ان کے حل کے لئے جہاں سندھ حکومت اقدامات کررہی ہے وہاں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا عملہ بھی دن رات کوشاں ہے۔ صبح 9 بجے دفاتر میں حاضری کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہوں تاہم یہ 8 سے 10 روز میں ممکن نہیں البتہ اس میں بہتری آرہی ہے اور امید ہے کہ اب وہ ملازمین جو تنخواہیں لے رہے ہیں وہ کام بھی کریں گے۔ کراچی میں واٹر بورڈ کے زیر انتظام کلفٹن اور شیریں جناح کالونی سیوریج پمپنگ اسٹیشن اچھا کام کررہے ہیں البتہ اولڈ سٹی ایریا اور لیاری سمیت اطراف کے علاقوں کے جمیلہ پمپنگ اسٹیشن 130 سالہ قدیم ہونے کے باعث مسائل سے دوچار ہے اور جلد ہی اس کو اپ گریڈ کرنے کے لئے کام کا آغاز کردیا جائے گا۔ گلشن اقبال سی او ڈی اور این ای کے واٹر پمپنگ اسٹیشن مثالی ہیں اور ان میں تمام شعبہء جات اچھی طرح کام کررہے ہیں۔ کراچی میں 65 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے، جس کے لئے کے فور، 100 اور 65 ملین گیلن یومیہ پانی کی اسکیموں پر کام تیزی سے جاری ہے جبکہ ڈی سیلینشین پلانٹ کراچی کے پانی کی کمی کو دور کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی صبح 9 بجے سے سہ پہر 3.00 بجے تک واٹر بورڈ کے مرکزی دفتر سے شروع کئے جانے والے دورے کے موقع پر مختلف مقامات پر میڈیا سے بات چیت اور افسران اور ملازمین سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر واٹر بورڈ کے ایم ڈی خالد محمود شیخ، قائم مقام ڈی ایم ڈی (ٹیکنیکل سروسس) غلام قادر عباس، چیف انجنئیر اعظم خان،سپریڈینٹنگ انجنئیرجمیل انصاری سمیت دیگر واٹر بورڈ کے افسران موجودتھے۔ صبح 9.00 بجے وزیر بلدیات واٹر بورڈ کے مرکزی دفتر پہنچے تو ایم ڈی واٹر بورڈ کے ہمراہ انہوں نے مختلف دفاتر کا دورہ کیا او ر اس موقع پر غیر حاضر افسران کے خلاف فوری ایکشن لینے کی ہدایات دی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر نے ایم ڈی واٹر بورڈ اور دیگر افسران کے ہمراہ شیریں جناح کالونی، کلفٹن اور جمیلہ سیوریج پمپنگ اسٹیشن کا دورہ کیا اور وہاں لگائی گئی مشینوں، جنریٹرز اور لائنوں سمیت دیگر کی مکمل تفصیلات حاصل کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر نے متعدد اسٹینڈ بائی بند مشینوں اور جنریٹرز کو اپنے سامنے آن کروا کر ان کی کارکردگی کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر جمیلہ پمپنگ اسٹیشن کی صورتحال پر انہوں نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ 130 سالہ پرانہ اسٹیشن ہے اس کو اپ گریڈ ہونا ضروری ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ شیریں جناح اور کلفٹن سیوریج پمپنگ اسٹیشن جدید مشینوں کے ساتھ ساتھ اسٹینڈ بائی مشینوں سے آراستہ ہونے سے یہاں کا نظام قدرے بہتر ہے البتہ جمیلہ پمپنگ اسٹیشن جو کہ 130 سالہ قدیم ہونے اور یہاں پر لائنوں کا نظام بھی بہت پرانا ہونے کی وجہ سے اولڈ سٹی ایریا ، لیاری اور گارڈن سمیت اطراف کے علاقوں میں سیوریج کے مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پمپنگ اسٹیشن کو ساتھ ہی میں ایک نئی عمارت بنا کر جدید خطوط سے آراستہ کیا جائے گا اور قدیم عمارت جو کہ تاریخی ہے اس کی حیثیت کو بھی بحال کیا جائے گا۔ اس موقع پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ملازمین اور افسران کو صبح 9.00 بجے حاضری کو معمول بنانے کے حوالے سے تمام ہدایات دی گئی ہیں اور اس میں کسی حدتک بہتری بھی آرہی ہے البتہ میں 100 فیصد مطئمین نہیں ہوں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زیر زمین واٹر ٹینگ میں کتے کے معاملے پر متعلقہ افسران سے باز پرس بھی کی گئی ہے اور اس سلسلے میں جو ذمہ داران ہوں گے اس کے خلاف ایکشن کا بھی ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایات دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اطلاع ملنے والی واٹر ٹینک کا تمام پانی ضائع کرکے اس کی صفائی کی گئی ہے اور اب وہاں پانی کی سپلائی بحال کردی گئی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں سیوریج کا نظام بہتر سے بہتر بنانے کی غرض سے ہی وہ آج دورے پر نکلے ہیں اور جن دو سیوریج پمپنگ اسٹیشنوں کا انہوں نے دورہ کیا ہے وہ اچھی اور بہتر حالت میں ہیں البتہ جمیلہ پمپنگ اسٹیشن کی اپ گریڈ لازمی ہے۔ اس کے بعد صوبائی وزیر گلشن اقبال میں سی اوع ڈی واٹر فلٹر پلانٹ اور بعد ازاں نارتھ ایسٹ کراچی (این ای کے) واٹر فلٹر پلانٹ کا دورہ کیا جہاں دونوں سے شہر کو کم و بیش 175 ملین گیل یومیہ پانی فراہم کیا جاتا ہے اور جہاں پر جدید لیبارٹری اور کلورین سمیت دیگر تمام تجزیہ کے لئے جدید لیبارٹری کی سہولیات موجود ہیں۔ صوبائی وزیر نے ان تمام کا تفصیلی دورہ کیا اور لیبارٹری، پانی میں کلورین شامل کرنے، پانی کو مکمل فلٹر کرنے سمیت تمام شعبوں کا تفصیلی دورہ کیا۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی کو پانی 150 کلومیٹر کی طویل راستہ کے بعد فراہم کیا جاتا ہے اور ان دونوں مقامات پر نہ صرف پانی کو فلٹر کیا جاتا ہے بلکہ یہاں کلورین کو پانی میں شامل کیا جاتا ہے اور یہ تمام عمل جدید مشینوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام عوام اگر اس تمام پروسیس کو دیکھے تو ان کا واٹر بورڈ کے لئے جو منفی رویہ ہے اس میں کسی حد تک کمی آسکے گی اور اس کے لئے میں نے ایم ڈی واٹر بورڈ سے کہا ہے کہ کوئی ایسا اہتمام ان دونوں مقامات پر کریں کہ عام عوام بھی ان تنصیبات کو دیکھ سکیں۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ چیف جسٹس خود اس بات کا کہہ چکیں ہیں کہ نیب جان بوجھ کر کسی کو تنگ نہ کریں لیکن ہم اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ نیب کسی پر الزام ثابت ہونے سے قبل میڈیا ٹرائل شروع کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس اس بات کا بھی نوٹس لیں کہ اگر کسی کو جان بوجھ کر کسی کو الزام کے بغیر میڈیا ٹرائل کرے تو نیب اس سے بھی معافی مانگیں۔ مئیر کراچی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیسوں کی ضرورت سب کو ہوتی ہے لیکن اخراجات کو ترجیعی بنیادوں پر کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تعلیم، صحت، پینے کا پنی سمیت دیگر مسائل کو ترجیع دینا ہوگی نہ کہ اورنج ٹرین اور سڑکوں پر اربوں کے اخراجات کرکے پھر پیسوں کا رونا نہیں ہونا چاہیے۔ کے فور منصوبے کے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ اس میں تاخیر کی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کے اخراجات میں اضافے کی ادائیگی نہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی لاگت میں اضافے کے بعد وفاقی حکومت کو سمیری بھیجی گئی ہے لیکن وفاقی حکومت پہلے کی لاگت کا ہی 50 فیصد دینے پر بضد ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پانی کی فراہمی کے دو فلٹر پلانٹ سے پانی کی درست فراہمی کے بعد ہمیں اب نچلی سطح پر علاقائی پمپنگ اسٹیشنوں کا جائزہ لینا ہے اور اس کے لئے بھی وہ جلد ڈسٹرکٹ کی سطح پر دورے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام بھی پانی کے بے دریغ استعمال کی بجائے پانی کے استعمال میں بچت کریں اور پانی کے بلوں کی ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ اس سے مزید پانی کے منصوبوں پر کام کا آغاز ہوسکے اور واٹر بورڈ اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے۔ کلفٹن سیوریج پمپنگ اسٹیشن پر صحافیوں کی جانب سے کچڑے میں پڑی ایک شراب کی خالی بوتل کی جانب جب صوبائی وزیر بلدیات کی نشاندہی کرائی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس اسٹیشن کے اطراف کچی آبادی ہے اور اس میں زیادہ تر غیر مسلم آبادی رہائش پذیر ہے جبکہ وہاں تجاوزات بھی ہیں لیکن یہاں کے ذمہ داران کو دیکھنا چاہیے کہ کون یہاں پر بوتلیں پھینک جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ سیوریج کے پانی کے ساتھ جو کچڑہ اور اس طرح کی بوتلیں آتی ہیں اس کو بھی نکال کیا جاتا ہے البتہ اس سلسلے میں میں نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایات دی ہیں کہ وہ تمام حقائق معلوم کرکے رپورٹ دیں۔

Please follow and like us:

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here